کیا سکون صرف قبر میں ہے؟
کیا سکون صرف قبر میں ہے؟ جہاں انسان کی پیدائش تکلیف میں ہوئی ہے وہیں اس کو موت کا گھونٹ بھی تکلیف کے ساتھ حلق سے نیچے اتارنا پڑتا ہے۔ تو پھر کیا یہ زندگی پیہم کشمکش کا نام ہے؟ کیا اس زندگی میں سکون کا حصول محال ہے؟ کیا سکون صرف قبر میں ہے؟ تیمور اپنے کمرے میں پریشان بیٹھا تھا اور ایک سوال پچھلے کئی دنوں سے اس کے ذہن کی راہ داریوں میں محو گردش تھا۔ وہ سوال یہ تھا کہ کیا سکون صرف قبر میں ہے؟ کیا یہ دنیا مصائب کی آماجگاہ ہے اور ان مشکلات کا حل کا اس بات میں ہے کہ ہم زندگی سے منہ موڑ کر موت کو گلے لگا لیں اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک بار ہی تمام تکلیفوں، دکھوں اور مصیبتوں سے چھٹکارا حاصل کرلیں؟ تیمور نے ملک کی مشہور درسگاہ سے اپنی تعلیم مکمل کی تھی اور اچھی ملازمت کے لیے اس نے کافی تگ ودو کی لیکن شومیِ قسمت وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہ ہوپایا لہذا اب وہ اپنے گزر بسر کے لیے ایک معمولی سی نوکری کرنے پر مجبور تھا۔ اس کی آمدن سےگھر کے اخراجات بمشکل ہی پورے ہوتے تھے کہ روزافزوں بڑھتی مہنگائی اور اخراجات نے اس کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی جس کی وجہ سے وہ اکثر پریشان رہنے لگا تھا لیکن...




