ذات نگر
ذات نگر
ایک بستی کی داستاں جہاں انساں نہیں رہتےتھے۔۔۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک مسافر کا ایک بستی سے گز ر ہوا اور وہ کھانے پینے اور آرام کی غرض سے وہاں ٹھر گیا۔ مسافر کو دیکھ کر ایک نیک دل شخص نے اسے کھانے پر دعوت دی کہ بیچارا پتہ نہیں کتنےدن سے بھوکا ہوگا۔ مسافر نے بخوشی دعوت قبول کی اور اسکے ساتھ اس کے گھر کو چل پڑا۔ اس شخص نے مسا فر کیلیے مختلف انواع کے کھانے تیا ر کروائے اور اسکی خوب آو بھگت کی ۔
جب مسافر رخصت ہونے لگا تو اس نے کہا کہ میں زندگی میں پہلی بار کسی سفر پر نکلا ہوں لہذا تم مجھے اپنے علاقے کا نام تو بتاؤ تاکہ میں اپنے لوگوں کو بتا سکوں کہ اس جہاں میں تم جیسے اللہ کے نیک اور سخی لوگ بھی آباد ہیں ۔ نیک دل شخص اس تعریف پر دل ہی دل میں بہت خوش ہوا اور جھٹ سے بولا کہ میری بستی کا نام ذات نگرہے۔ مسافر نے اسے حیرانگی سےدیکھا اور بولایہ کیسا عجیب نام ہوا ، ذات نگر ، ایسا نا م تو میں نے کبھی نہیں سنا۔
نیک دل شخص کو مسافرکی حیرانگی پسند نہ آئی لیکن اس کو معلو م تھا کہ وہ مسافر پہلا شخص نہیں تھا جس نے اس کی بستی کا نام سن کرایسا ردعمل دیاہو۔ وہ شخص کچھ ٹھر کر بولا کہ بات دراصل یہ ہے کہ پہلے ہماری بستی کا یہ نام نہیں تھاہم سب لوگ ہنسی خوشی اور مل جل کر زندگی بسر کر رہے تھے پھر یہ ہوا کہ یہاں کے باسی ذات پات کے گرداب میں پھنس گئے، ہر کوئی اپنے آپ کو برتر ثابت کرنے میں مصروف رہنے لگا حتٰی کہ لوگوں نے اپنے اپنے دھڑے بنا لیے اور دوسروں لوگوں سے میل جول کم کر دیا ۔ اب بات اس نہج پہ پہنچ گئی کہ لو گ اپنے بچوں کو دوسری ذات کے بچوں سے کھیلنے نہیں دیتے کیونکہ وہ اچھے لوگ نہیں ہیں، ،بچوں کو غیر برادری میں شادی کی قطعااجازت نہیں کیونکہ اس سے برادری میں ناک نہیں رہتی، لو گ سرسری سی بات پر جان لینے کے درپے ہوجاتے ہیں کیونکہ غیر برادری والے کی جان کی کوئی قدرنہیں۔
مسافرنے یہ الفاظ سنے اور جھٹ سے اپنا سامان پکڑا اور بولا بھائی مجھے اجازت دو میں چلتا ہوں یہ بستی خطرے سے خالی نہیں کیونکہ یہاں انسان نہیں ذاتیں رہتیں ہیں جو انسانیت اور احساس سےعاری ہیں ۔
اس حکایت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جیسےآج ہمارامعاشرہ ذات پات کے شکنجے میں جکڑاہواہے جس سے بہت سی زندگیاں برباد ہو چکی ہیں تو ہمیں چاہیے کہ اب ہم اپنے معاشرے کو اس کے چنگل سے آزاد کرانے میں اپنا کردار ادا کریں اور ہر شخص کو اس کی ذات یا نسل کے معیار پر جانچنے کی بجائے اس کے کردار اور اخلاق کی بناء پر اس کی عزت وتکریم کریں۔یہ فرقے اور ذاتیں فقط پہچان کے لیے ہیں اگر کسی کو کسی پر برتری ہے تو تقوی کی بنیاد پرہے کیونکہ کل قیامت کےروز بندے سے اس کےاعمال کا پوچھا جائے گا نہ کہ اس کے باپ دادا کا نام۔ ایک اہم بات جو شاید ہم نے کبھی سوچی ہی نہیں یا فراموش کر چکے ہیں کہ ہمیں اللہ نے ذات، قبیلے، رنگ یا نسل چننے کا اختیا ر نہیں دیا اگر ایسا ہوتا تو ہر کوئی کسی بادشاہ یا کسی امیر ذادے کا چشم وچراغ بننا قبول کرتا، کوئی کسی غریب کے گھر پیدا نہ ہوتا تو یہ گھمنڈ آخرکس بات پر؟
ازقلم: حسیب الحسن
ازقلم: حسیب الحسن


Great story.
ReplyDeleteThanks a lot :-)
DeleteGood Effort.. 👍🏻
ReplyDeleteThank you so much.
DeleteIt's really Nice
ReplyDeleteThanks for appreciation.
DeleteBhai saab kia bat hay........rana haseeb ul hassan...haha
ReplyDeleteJazak ALLAH ul khair
DeleteSabaq amoz ,
ReplyDeleteThank you
Deletewah rana sahib 😁
ReplyDeleteDogar sb thank you.
DeleteNow is the time to change ourselves. Every single person is a building block of family, families make a society and societies a Nation.
ReplyDeleteWe have an ideal revolution example in real world but we will have to go back 14 centuries back and modify our lives according to the teachings of our Prophet (S.A.W).
In order to get success get things changes in an ideal way, we will have to start from zero in every aspect whether it is educational system or economic system.
Yes, of course Asad, if we need to get the things in their best form then we have to follows the path guided by ALLAH. Otherwise, we'll remain keep moving in the loop of difficulties.
Deletejust good looking comments cannot bring difference
ReplyDeleteزبردست
ReplyDeleteشکریہ
Deleteنہایت عمدہ
ReplyDeleteJazak ALLAH ma'am for your response.
Delete