بابل کی دعائیں لیتی جا
بابل کی دعائیں لیتی جا
بیٹیاں اللہ کی رحمت اور گھروں کی رونق ہوتی ہیں۔ باپ جب کبھی پریشان ہوتا ہے تواکثر اوقات اپنی لاڈلی بیٹی سے دعا کرواتا ہے کیونکہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ یہ ہاتھ رب کی بارگاہ سے خالی نہیں لوٹائے جا ئیں گے۔
رب نواز کو اللہ نے چار پھول جیسی بیٹیاں عطاکی ہیں اوروہ اس رحمت پرہمیشہ ہی اپنے رب کا شکرگزار رہا ہے ۔ اس نے کبھی شکوہ نہیں کیا کہ اس کواولاد نرینہ سے کیوں محروم رکھا گیا۔ رب نواز کی بیگم رحمت بی بی اس دنیاسے پردہ کر چکی ہے اور رب نواز بڑھاپے کی منزل کی طرف گامزن ہے اور شریک حیات کی جدائی نے اس کے اعصاب کو کمزورکردیا ہے۔
گُل اس کی سب سے بڑی بیٹی ہے جوکہ ایک سلیقہ مند اور سمجھدار لڑکی ہے ۔ گھر کے کام کاج میں خاص مہارت رکھتی ہے اور رب نواز کے مطابق اللہ نے اسکے ہاتھ میں ذائقہ رکھا ہے کیونکہ وہ خوش ذائقہ پکوان تیار کرنےمیں اپنی مثال آپ ہے۔ جب بھی گُل اپنے باباکو لذیذ کھانے پکا کر کھلاتی ہے تو وہ اس کو ڈھیروں دعائیں دیتاہے۔ گُل شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہے اور اس کے لیے دولہے کا انتخاب کر لیا گیا ہے جو کہ ایک نفیس انسان ہے اور گُل خوش ہے کہ اس کو ایسا جیون ساتھی ملنے والا ہے۔
ان سب خوشیوں میں ایک پریشانی والی بات یہ ہے کہ ماں کے اس دنیا سے چلے جانے کی وجہ سے گُل کے کمزور کندھوں پر بھاری ذمہ داری آن پڑی جس کو اس نے بخوبی نبھایا اور سب اس بات کے متعرف ہیں۔ گُل نے اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ گھر کو سنبھالااور اپنی بہنوں کا بھی خیال رکھا غرض ماں کے جانے کے بعد اس نے گھر کوبھرپور سہارا دیا۔ کچھ دنوں کی بات ہے کہ گُل نے رب نواز کو بازار سے سودا سلف لانے کا کہا تو اس کے بابا نے کہا کہ ابھی صبح صادق کا وقت ہے کچھ دیرمیں سامان لےآتا ہوں۔ گُل کو نجا نے کیا ہوا اور وہ اپنے بابا کی اس بات پر اونچی آوازمیں ناراضگی کا اظہار کرنے لگی جس سے رب نواز کے دل کو ٹھیس پہنچی۔ دراصل یہ سلسلہ کچھ عرصے سے متواتر چلتا آرہا ہے کہ جب بھی کوئی بات گُل کونامناسب لگتی ہے ، خواہ وہ معمولی سی بات ہی کیوں نہ ہو،وہ اس پر آگ بگولہ ہو جاتی ہے اور کافی بدتمیزی سے سب سے پیش آتی ہے۔ گُل کی اس عادت سے سب گھر والے رنجیدہ اور پریشان رہنے لگےہیں۔
کچھ دن کی ہی بات ہے کہ گُل کی رب نواز سے کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی اور اس نے حسب معمول اپنے بابا کا دل دکھایا تو رب نواز اپنے آنسو ضبط کرتا گھرسے نکل گیا لیکن وہ دل ہی دل میں بہت رویا کیونکہ اس موقع پر اسکو رحمت بی بی بہت یاد آئی جو اس پر اپنی جان چھڑکتی تھی۔ رب نواز نےاللہ سے شکوہ اور التجاءکی کہ’’ اے رب! تونے کیوں میری رحمت کو واپس بلالیا، میری اولاد مجھے سمجھ نہیں رہی تو ان کو ہدایت دے‘‘۔اس سارے واقعے کی وجہ سے گھر میں افسردگی چھائی تھی ۔ گُل اپنے کام کاج مکمل کرنے کے بعد اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھی کہ اسکی چھوٹی بہن نور کمرے میں آئی اور کہنے لگی کہ آپی آپ اجازت دیں تو میں ایک بات کرنا چاہتی ہوں۔ گُل نےاسے اپنے پاس بیٹھایا اور کہا کہ نور تم بولو میں سن رہی ہوں۔ نور بچپن کے قصے یاد کرنے لگتی ہے کہ کیسے اس کے بابا اور ما ں نے ان چاروں بہنوں کو نازوں سے پالا، ان کی ہر خواہش کو پورا کرنے کے لیے دن رات محنت کی،ان کو پڑھایا اور آج سب ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔
گُل بھانپ گئی کہ نور کچھ اور کہنا چاہتی ہے اور جحجک رہی ہے ۔ گُل نے نور سے کہا ہے کہ گھبراو نہیں جو کہنا چاہتی ہو ،بس آرام سے بول دو۔ نورہمت کرکے بولنا شروع کرتی ہے کہ آپ چند ماہ میں ہمیں چھوڑ کر چلے جائیں گیں تو ہمیں آپ کی بہت یادآئے گی اس لیے میری آپ سے درخواست ہے کہ جو وقت رہ گیا ہے اس کو یاد گاربنائیں اور بے محل سیخ پا ہونا چھوڑ دیں کیونکہ ا س سے دوسروں کی دل آزاری ہوتی ہے ۔گُل پھر غصہ کرنے لگتی ہےتو نور اپنی آپی کا ہاتھ بہت پیار سے تھام کرکہتی ہے کہ آپ ہمیں بہت عزیزہیں تبھی آپ سے درخواست کررہی ہوں کہ باباکو دیکھیں اب وہ گھر کم رہتے ہیں پتہ ہے کیوں؟ گُل اسے سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہے۔ نور تھوڑا ٹھر کر خود ہی بولتی ہے کہ وجہ یہ ہے کہ ہماری بہت سی باتیں ان کو رنجیدہ کر دیتیں ہیں ۔ اب وہ عمر کے اس حصے میں جہاں والدین کو اُف تک کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ان کو ایک معمولی سی بات بھی بہت ذیادہ دکھی کردیتی ہے، وہ ما ں کو بہت یاد کرتے ہیں تبھی ماں کا ذکر چھڑ جانے پر آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔ میں مانتی ہوں وہ کئی بار ٹھیک نہیں ہوتے لیکن ان کو سمجھنا ہماری ذمہ داری ہے، آپ ﷺ نے فرمایا :
"باپ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے، اب تیری مرضی اسے ضائع کرے یا محفوظ کرے۔"
"باپ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے، اب تیری مرضی اسے ضائع کرے یا محفوظ کرے۔"
(باب:ماں باپ کی رضامندی کی فضلیت، حدیث نمبر ۱۶۹۱، جامع ترمذی)
میری التجاء ہے کہ آپ اس جنت کے دروازے کو ضائع نہ کریں ورنہ ہم باباکو رنج دے دے کر ما ں کی طرح کھو ہ نہ دے۔ میں کچھ زیادہ بول دیا ہو تو نادان سمجھ کر معاف کر دیجیئے گا۔ آئندہ شاید اتنی ہمت نہ کر سکوں، میں بس چاہتی ہوں کہ آپ اس گھر سے بابا کی نیک تمناؤں کے ساتھ رخصت ہوں۔ یہ کہہ کر نور اپنے آنسؤں کو گالوں سے صاف کرتے ہوئے چلی جاتی ہے۔
؎ بابل کی دعائیں لیتی جا
میری آپ سب پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ اپنے ماں باپ کا احترام کریں اور خصوصی دعا کریں کہ اللہ سب کو ماں باپ کی خدمت کرنے کی توفیق عطاکریں اور ہمیں والدین کیلیے باعث رحمت بنائیں آمین! کیونکہ ہم انسان اللہ کی بے شمار ان نعمتوں کی قدر نہیں کرتے جو ہمیں بنا کچھ کیے اللہ کے فضل سے ملیں ہیں ، اس سے پہلے کے ہماری لاپرواہی اور ناشکری کی وجہ سے یہ نعمتیں چھین لی جائیں اور ہمیں بعد میں پچھتاوا ہوتو بہتر ہے کہ آج ہی سے ہم اپنے والدین کویہ احساس دلائیں کہ ہمارے لیے وہ کتنی بڑی نعمت ہیں اور ان کو پیار اور ان کی خدمت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں کیونکہ ہم لوگ اپنوں کے ساتھ پیار کے اظہارمیں بھی کنجوس ثابت ہوئے ہیں۔
از قلم : حسیب الحسن




Zbrdst...Ameeen😍ALLAH Pak waldaaan ka sayaaa hmray saroun pa qaim rakhy aur hmain un ki khidamat ka moqa milay Ameen...
ReplyDeleteJazak ALLAH, ameen suma ameen. :-)
Deleteبہت خوب
ReplyDeleteآپ کا بہت شکریہ :-)
DeleteReally Heart touching
ReplyDeleteThank you so much for your feedback. (Y)
DeleteThis comment has been removed by the author.
ReplyDelete