کیا سکون صرف قبر میں ہے؟

کیا سکون صرف قبر میں ہے؟

جہاں انسان کی پیدائش تکلیف میں ہوئی ہے وہیں اس کو موت کا گھونٹ بھی تکلیف کے ساتھ حلق سے نیچے اتارنا  پڑتا ہے۔ تو پھر کیا یہ زندگی پیہم کشمکش کا نام ہے؟ کیا اس زندگی میں سکون کا حصول محال ہے؟ کیا سکون صرف قبر میں ہے؟


کیا سکون صرف قبر میں ہے

تیمور اپنے کمرے میں پریشان بیٹھا تھا اور ایک سوال پچھلے کئی دنوں سے اس کے ذہن کی راہ داریوں میں محو گردش تھا۔ وہ سوال یہ تھا کہ کیا سکون صرف قبر میں ہے؟ کیا یہ دنیا  مصائب کی آماجگاہ ہے اور ان مشکلات کا حل کا اس بات میں ہے کہ ہم زندگی سے منہ موڑ کر موت کو گلے لگا لیں اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک بار ہی تمام تکلیفوں، دکھوں اور مصیبتوں سے چھٹکارا حاصل کرلیں؟

تیمور  نے ملک کی مشہور درسگاہ سے اپنی تعلیم مکمل کی تھی اور اچھی ملازمت کے لیے اس نے کافی تگ ودو کی لیکن شومیِ قسمت وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہ ہوپایا لہذا اب وہ اپنے گزر بسر کے لیے ایک معمولی سی نوکری کرنے پر مجبور تھا۔ اس کی آمدن سےگھر کے اخراجات بمشکل ہی پورے ہوتے تھے کہ روزافزوں بڑھتی مہنگائی اور اخراجات نے اس کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی جس کی وجہ سے وہ اکثر پریشان رہنے لگا تھا لیکن وہ اپنی پریشانی کسی کو بتا بھی نہیں پارہا تھا۔ گوکہ وہ اہنے کام کو لگن اور محنت سے سر انجام دیتا تھا اور ہر کوئی اس کے کام کی تحسین بھی کرتاتھا لیکن جب بھی اس نے تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کیا تو اس کو یہ کہہ کر ٹال دیا گیا کہ ابھی کاروبار کے حالات ٹھیک نہیں۔

ایک دن جب وہ ہمت کر کے اپنے ابا جان سے اپنی پریشانی کا ذکر کرنے لگا تو اس کے ابا نے اس کو یہ کہہ کر ٹوک دیا کہ ان کو تیمور سے ایک اہم بات کرنی ہے۔ وہ کہنے لگے " تیمور ہمیں اس ماہ بیس ہزار روپے زیادہ چاہیے ہوں گے کیونکہ ہم نے جو تمھاری بہن کے بیاہ کے لیے قرض لیا تھا اس کی ادائیگی کرنی ہے اور میں تمھارے چچا سے وعدہ بھی کر چکا ہوں کہ ہم اس ماہ ان کی رقم ضرور لوٹا دیں گے۔ اب تم کیسے بھی کر کے روپوں کا بندوبست کر لینا۔" یہ سن کر تیمور کچھ دیر کے لیے سکتے میں آگیا اور خاموشی سے اٹھ کر چلے گیا۔ اس نے ساری رات بے چینی میں یہ سوچتے ہوئے گزار دی کہ وہ اتنے روپوں کا کیسے انتظام کرے گا۔ وہ جتنا روپوں کے متعلق سوچتا اتنا ہی وہ سوال بار بار اس کے ذہن میں آتا کہ "کیا سکون صرف قبر میں ہے؟"


یتمور پریشان بیٹھا ہے


اگلی صبح جب وہ اپنی ماں کے پاس اپنی پریشانی کا ذکر کرنے گیا تو اس کی ماں بیمار پڑی تھی۔ اس نے تیمور سے کہا کہ اس کو تیز بخار نے آپکڑا ہے اور وہ آتے ہوئے اس کے لیے دوا لیتا آئے۔ ماں کی ایسی حالت دیکھ کر تیمور نے اپنی پریشانی کا ذکر کرنے کا ارادہ ترک کردیا اور وہ پریشان حال بغیر کچھ کھائے پیئے ہی ملازمت کے لیے نکل گیا۔ ایسا نہیں تھا کہ اس کو بھوک نہیں تھی بلکہ شدید پریشانی کی وجہ سے اس کو کوئی بھی چیز اچھی نہیں لگ رہی تھی اور اس کے سر میں بار بار درد اٹھ رہا تھا جس نے اس کی تکلیف کو دوگنا کر دیا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اس کا دنیا میں کوئی بھی نہیں جو اس کی تکلیف اور بے چینی کو سمجھ سکے۔ سب رشتے مطلب کے ہیں کسی کو بھی اس کی پرواہ نہیں۔

؂      عجب تماشہ ہے حسیب، اس بے مروت دنیا کا

          کہ ہر کوئی ہے ساتھ،  پر ساتھ کوئی نہیں                        (حسیب الحسن)

آج تیمور جب ملازمت سےواپس آیا تو اس کا دوست ہادی اس کا انتظار کررہا تھا کیونکہ ہادی کو کسی ضروری کام کے لیے بازار جانا تھاجس کے لیے اس کو تیمور کی موٹرسائیکل درکار تھی۔ ہادی اور تیمور ناصرف اچھے دوست تھے بلکہ وہ دونوں چچا زاد بھائی بھی تھے۔ ہادی نے جب تیمور کو دیکھا تو فورا بھانپ گیا کہ تیمور ٹھیک نہیں ہے۔ ہادی نے تیمور سے جھٹ سے پوچھا کہ تیمور مجھے تم پریشان نظر آرہے ہو، سب خیریت تو ہے ناں؟ پہلے پہل تو تیمور ہادی کو ٹالتا رہا کہ کوئی مسئلہ نہیں، بس کام کی وجہ سے تھکا ہوا ہوں لیکن ہادی کے اصرار پر تیمور نے اس کو ساری صورتحال بتا دی۔ تیمور کی باتوں نے ہادی کو پل بر کے لیے جھنجھوڑ کر رکھ دیا کیونکہ وہ اس سے پہلے اس بات سے بالکل انجان تھا کہ تیمور اس قدر اذایت سے گزرہاہے کہ اس کو گمان ہونے لگا تھا کہ اصل سکون تو صرف قبر میں ہے۔ 


ہادی اپنی باسئیکل پر

ہادی نے اپنے حواس کو بحال کیا اور کہنے لگا "سنو تیمور! زندگی کا وجود سکھ اور دکھ کے سنگم سے بنا ہے جہاں ہم مختلف مصائب کا شکار ہوتے ہیں وہیں کئی بار ہمارا دامن ان گنت خوشیوں سے بھی بھر جاتا ہے اور ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ اللہ ہماری آزمائش کرتے ہیں کہ کیا اس کا بندہ خوشی اور غمی میں اس کی طرف رجوع کرتا ہے؟ کیا وہ نعمت کے ملنے پر اس کا شکر ادا کرتا ہے؟ کیا وہ مصیبت کی گھڑی میں صبر کا دامن تھامتا ہے؟ قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:

وَلَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَالۡجُوۡعِ وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ط وَبَشِّرِ الصَّبِرِیۡنَ

اور البتہ ہم ضرور آزمائے گے تمھین کچھ خوف سے اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے اور خوشخبری دے دیجیے صبر کرنے والوں کو۔               (سورۃ البقرۃ، ۱۵۵)

اس لیے ہمیشہ مصائب کا مقابلہ صبر سے کرو اور خوشی کے لحمات میں اپنے رب کو یاد کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔ کیونکہ جب انسان اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے تو اللہ اس سے خوش ہو کر اس کو مزید نعمتیں عطا کرتا ہے۔ اسی طرح ہر مشکل گھڑی اپنے اندر ایک موقع بھی لے کر آتی ہے اب یہ ہم ہر منحصر ہے کہ ہم اس دوران صرف آہ وفغاں میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں یا اس موقع سے کوئی فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔"

؂    تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

     یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے                         (سید صادق حسین)

لہذا مجھے امید ہے کہ اب تمھیں تمھارے سوال کا جواب مل گیا ہوگا کہ سکون صرف قبر میں نہیں بلکہ سکون تو اللہ کی یاد اور اس کے تعلق قائم کرنے میں ہے۔ 

اور دوسری بات یہ کہ اگر چچا  یا چچی جان نے انجانے میں تمھاری بات نہیں سنی تھی تو تمھیں چاہیے تھا کہ ان سے دوبارہ بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تم اس بات سے بخوبی واقف ہو کہ ان کو تم بہن بھائیوں کی خوشی سے بڑھ کر دنیامیں کوئی بھی چیز عزیز نہیں۔ انھوں نے تم سب کے لیے اپنی ساری زندگی محنت میں صرف کر دی اور چچا جان تو باوجود بڑھاپے کے ابھی تک تمھارے ساتھ محنت اور مشقت کرتے ہیں۔  اگر کسی وجہ سے وہ تمھاری بات کو سن یا سمجھ نہیں پائے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان کو تمھاری کوئی پرواہ نہیں۔ اس لیے آئندہ جب کبھی پریشان ہو تو گھر والوں اور مجھ سے اس کا ضرور ذکر کرنا کیونکہ ہم تمھیں پریشان نہیں دیکھ سکتے۔

 اکثر ایسا ہو جاتا ہے کہ ہم دوسرے کے جذبات یا کیفیت سمجھ نہیں پاتے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہمیں ان کی پرواہ نہیں۔ یہ کہہ کر ہادی نے تیمور کو گلے لگا لیا اور کہا کہ "آئندہ ایسے الٹے سیدھے خیالات دل میں لائے تو تمھاری خیر نہیں۔" اب مجھے جلدی سے موٹر سائیکل کی چابی دو تاکہ میں گھر جا کر ابا جان سے قرض سے متعلق بات کر سکوں کہ وہ قرض کی وصولی دو ماہ تک مؤخر کر دیں اور اس دوران تم روپوں کا انتظام کر لینا اور چچا جان سے بھی کہہ دینا کہ وہ قرض سے متعلق مزید پریشان نہ ہوں۔ یہ کہہ کر ہادی نے تیمور کے ہاتھ سے چابی لی اور موٹر سائیکل لے کر گھر کو روانہ ہو گیا۔ جبکہ تیمور کی آنکھیں اپنے رب کی شکر میں بھیگ رہی تھیں اور ایک صدا اس کے کان میں پڑی:

فَبِاَیِّ اَلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ 

پس تم(جن وانس) اپنے رب کی کونسی کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔         ( سورۃالرحمن، ۱۳)



از قلم:    حسیب الحسن


 



Comments

  1. Aoa Haseeb, once again I'm captivated by your beautiful writing piece, indeed, in today's chaotic world, we need inspirational writing and yours is definitely doing the work. Please continue. May Allah bless you. Ameen.

    ReplyDelete
    Replies
    1. Thank you so much Sophia baji for your appreciation and inspiration. You have always motivated me and guided me. In sha ALLAH, I'll try to keep writing.

      Delete
  2. Harsh economic scenarios are not new to human beings. I am happy that people like Haseeb are playing their positive role. Every silver-lining is important in order to show human beings that above black-clouds, someone up there is always listening and seeing them.

    ReplyDelete
    Replies
    1. Of course, we have our Beloved creator ALLAH, WHO loved us more than seventy mothers then how can HE leave to suffer without any purpose. By the way, Jazak ALLAH ul Khair for your feedback brother, it is good to see you here.

      Delete
  3. Ma sha ALLAH amazing Haseeb! I'm becoming fan of you day by day. May ALLAH accept the purity and sincerity in your heart and bless us too with the same. Aameen! Keep writing, keep working brother, for the betterment of the mankind.

    ReplyDelete
    Replies
    1. Thank you so much for believing in me and motivating me. It is a blessing to have a brother like you. In sha ALLAH, I'll try my best to keep writing and striving for the betterment of mankind.

      Delete
  4. MashAllah Haseeb you're going to be a writing "ICON" You have potential to write something Magical and impressive..
    Story was spiritual and reality base as well as your words collection is excellent.
    Keep it up bro 😊

    ReplyDelete
    Replies
    1. Hahaha, thank you so much for your appreciation. It means a lot. Keep remember me in your prayers.

      Delete
  5. A brilliant piece of writing with a splendid message.

    ReplyDelete
  6. A very nice and comprehensive piece of writing reflecting current problems of a common man of Pakistan!Keep it up 👍

    ReplyDelete

Post a Comment