ہائبرڈ جنگ اور وطن عزیز


 ہائبرڈ جنگ اور وطن عزیز


 پاکستان کی موجودہ صورت حال نے ہر شخص کو متاثر کیاہے اورمہنگائی کے ساتھ ساتھ لوگوں کی مایوسی اور بے چینی  میں بھی اضافہ ہواہے۔  تجزیہ نگار بھی قومی صورت حال اورملکی معیشیت کی زبوں حالی کا تذکرہ کرتے نظر آتے ہیں ۔ ہمارے ان مسائل کے بیشتر محرکات ہیں  جن میں ہماری نااہلی ، مفاد پرستی اور دیگر نمایاں ہیں لیکن ہمارےدشمن بھی ہمہ وقت دھاک لگائے بیٹھے رہتے ہیں کہ جیسےہی  کوئی موقع ہاتھ آئےتو ہمیں  نقصان پہنچائیں۔ 




 ہائبرڈ جنگ (Hybrid War) ایک ایسیغیرروایتی اورموثر  جنگ ہے جس کا مقصد اپنے حریف کو ہتھیاروں سے لڑے بغیر  زیر کرنا  ہے۔ اس جنگ میں اپنے مد مقابل کےدل ودماغ پر اپنا  رعب ودبدبہ قائم کرکے اس کے حوصلے کو شکست دی جاتی ہےتاکہ وہ مایوس ہوکر دوبارہ کھڑا نہ ہوسکے۔ اس کے لیے ملک میں انتشار پھیلایا جاتاہے اورچونکہ قومی نظریات قوم کی بقاءکے ضامن ہوتے ہیں اس لیے قومی نظریات پر چوٹ لگائی جاتی ہے تاکہ لوگوں میں ان کے متعلق شک وشبہات پھیلائے جائیں اور عوام ان کا تحفظ کرنے سے انکار کردیں۔ 

ہائبرڈ جنگ دراصل ایک پرانا طریقہ جنگ ہے جو صدیوں سے مستعمل ہے ۔ چینی جنگی ماہر اور فلاسفر  سن زو (Sun Tzu) کا صدیوں پرانا یہ قول ’’بہترین  حکمت عملی یہ ہے کہ جنگ کے بغیر دشمن کو زیر کر لیا جائے۔‘‘ اس بات کی واضح دلیل ہے۔ اس جنگ کے ہتھیار  وہ تمام اقدامات ہیں جن کے ذریعے دشمن کوبدحواس اور اس کے حوصلے پست کیے جاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر  کسی ملک کی سیاست میں دخل اندازی کرنا ،کسی سیاسی پارٹی کی پشت پناہی کرکے ملکی مفادات کے خلاف فیصلے کروانا  ۔پاکستان کی تاریخ میں ایسی سیاسی جماعتیں  موجود  رہی ہیں جن کی وجہ سے ملک کو کافی نقصان  برداشت کرنا پڑا اور ہر پاکستانی ان سے واقف بھی ہے۔


روایتی طریقہ جنگ

اس جدید  دور میں جہاں ہر شعبہ ہائے زندگی میں  انقلاب برپاہواہے وہیں ہائبرڈ جنگ میں بھی تبدیلیاں آئی ہیں۔ میڈیا اب اس جنگ کا ایک بہت اہم اورمہلک ہتھیار بن چکاہے کیونکہ میڈیا کے ذریعےعوام  میں من گھڑت اور جھوٹی خبروں سے انتشار اور بے چینی پھیلائی جاتی ہے ۔ جیسے کہ کچھ سال قبل جب ایک صحافی پر قاتلانہ حملہ ہواتواس کے چینل نے بغیر تصدیق قومی ادارے کے کیخلاف سنگین الزامات کی بوچھاڑ کردی جس پربعد میں باقاعدہ معافی بھی مانگی گئی ۔حال ہی میں" چینل ون" نے ایک مبینہ ویڈیو کے ذریعہ    چیئرمین نیب کی کردار کشی  کرنے کی کوشش کی  اور  پھر کچھ دیربعداس پر معافی مانگی گئی کہ یہ ایک غیر تصدیق شدہ مواد تھا جس سے   چیئرمین نیب کا کوئی تعلق نہیں۔


من گھڑت اور جھوٹی خبریں 

اسی طرح   سوشل میڈیا کے ذریعے بھی عوام میں اشتعال انگیزی اور نفرت کو فروغ دیا جاتا ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر روک تھام کا کوئی مربوط نظام موجود نہیں اوراس طرح ملک میں معاشرتی نظام میں توڑ پھوڑ کی جاتی ہے۔ اسکی تازہ مثال ایک مخصوص قومیت کے تخفظ کے لیے ابھرنے والی تحریک ہے جسکی پشت پر بیرونی طاقتیں کھڑی ہیں  اور اس تحریک نے قومی اداروں  کیخلاف ہتک آمیز کلمات کا استعمال بھی کیاہے اور اس کے لیے انھوں نے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال  کیاہے۔


اجتجاج کرتاہواگروہ

اس  جنگ میں دشمن، وطن کے غداروں اور کرائے کے غنڈوں کے ذریعے  امن وامان کی صورت حال کو نقصان پہنچاتاہے جن کو پراکیسی  (proxy) بھی کہاجاتاہے ۔ جیساکہ اکثر اوقات سرحد پار سے کچھ لوگ آتے ہیں اور تخریب کاری کر کے لوٹ جاتے ہیں ۔ جیسا کہ چند ہفتے پہلے کا واقعہ ہے جب بلوچستان میں ایک بس میں سوار مخصوص لوگوں کو بے دردی سے قتل کر دیاگیا اوراس کے ذمہ داران سرحد پار سے آئے تھے۔


وہ مسلح افراد جو کسی دشمن ملک کے کیخلاف استعمال کیے جاتے ہیں

 ڈپلومیسی یا سفارتکاری  کے ذریعے بھی کسی ملک کے کیخلاف عالمی فورم پر پرو پیگنڈا کیا جاتاہے جیسے کہ ہمارا ہمسایہ ہمارے کیخلاف عالمی فورمزپر الزام لگاتاہے کہ ہم دہشت گردی کی پشت پناہی کرتے ہیں حالانکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارا کافی خون بہہ چکاہے اور عالمی ادارے بھی  ہمارے کیخلاف ہی پابندیاں لگادیتے ہیں ۔ مثال کے طور پر بھارت کا پاکستان کو ایف اے ٹی ایف(FATF) کی گرے لسٹ کے بعد بلیک لسٹ میں شامل کروانے کیلیے مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی  تگ ودو کرنا ۔ کسی ملک کی معاشی صورت حال کو تباہ کرنا بھی اس جنگ کا بہت ہی اہم ہتھیار بن چکاہے ۔ کسی ملک کی کرنسی کو بلواسطہ یا بلاواسطہ ڈیویلیوکروانا ، اس پر تجارتی پابندیاں لگاناوغیرہ شامل ہے۔کچھ دن قبل جیسے ڈالر کی پاکستانی روپے میں اڑان سے اندازہ لگانامشکل نہیں ہےکہ اسکے پس پردہ ملک دشمن عناصرہیں اور بعد میڈیااور عوام نے سوشل میڈیا پر اسکے کیخلاف آواز بھی اٹھائی  ۔ 

اس ساری گفتگو سے ایک عام فہم  پاکستانی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ کیا ہم واقعی ہی حالت ہائبرڈ جنگ میں ہیں یایہ صرف خام خیالی ہی ہے؟   اگر یہ جنگ ہم پر مسلط کر دی گئی ہے تو اسکا مقابلہ یوں کیا جاسکتاہے  کہ جیسے فوج کا ادارہ  قابل ستائش انداز میں ہر فورم پر اس کا مقابلہ کر رہاہےاسی طرح نیشنل سکیورٹی کمیٹی جسکی صدارت وزیراعظم کرتے ہیں، کو ذمہ داری جائے کہ وہ عوام کے سامنے حقائق لائے  اور جو لوگ وطن کے خلاف کسی طرح کی کاروائی میں ملوث ہوں چاہے ان کا تعلق میڈیا ،سیاسی جماعت  یا کسی بھی شعبہ سے  ان کوقانون کے تقاضوں کے مطابق کڑی سے کڑی سزادی جائے۔جن لوگوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے ان کی داد رسی اور دل جوئی کی جائے اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے وگرنہ دشمن عناصر ان کو ملک کے کیخلاف آسانی سے استعمال کر سکتے ہیں جسکی ذمہ داری حکومت پر بھی آتی ہے۔

 اسکے ساتھ ساتھ ہم سب پاکستانیوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ ہم بھی کسی خبر کو پڑھیں یا کسی کو اسکے بارے میں مطلع کریں تو اس بات کی تسلی کر لی جائے کہ یہ خبر سچی ہے ورنہ ہم بھی اپنے معاشرے میں انتشار پھیلانے کے مرتکب ہو سکتے ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ اور تبصروں سے ملکی سالمیت کا بھرپور دفاع کریں  اور قومی نظریات کے کیخلاف بات کرنے والوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔ آمین!

پاکستان پائندہ  باد           پاکستان زندہ باد 




  ازقلم:  حسیب الحسن




Comments

  1. آج ھمیں واقعی میں ایمان، اتحاد، اور تنظیم کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. بے شک اس جنگ میں اسی کو نشانہ بنا گیاہے ، بھائی جان کسی بھی ملک کے لیے یہ تینوں ضروری ہیں

      Delete
  2. بھائی آپ کی تحریر قابل ستائش ہے۔ میں مزید اضافہ کرنا چاہوں گا کہ اسے جنگ کا چوتھا درجہ یا
    4th generation warfare
    بھی کہا جاتا ہے۔ مزید وہی بات جس کا آپ نے ذکر تو کیا مگر مفصل نہیں لکھا وہ یہ کہ اس طرح کی جنگ میں "قومی نظریہ " پر حملہ کرنے کہ پرزور کوشش کی جاتی ہے اور نوجوانان ملک کو گمراہ کیا جاتا ہے اور ان کو ماضی سے ناواقف کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور آج یہی سب ہو رہا ہے

    ReplyDelete
    Replies
    1. جی آپ کی بات بالکل درست ہے اور شکریہ کہ آپ نے ایک اچھا اضافہ کیاہے۔

      Delete

Post a Comment

Popular Posts