یہ شکست کیا ہوتی ہے؟



یہ شکست کیا ہوتی ہے؟

جب  اس  کرہ ارض پر زندگی کا آغاز ہوا  تو ساتھ ہی اس کے رہنے والوں کے درمیان مسابقت اور مقابلے  کی ایک نہ خہتم ہونے والی دوڑ شروع ہوگئی۔ آج ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں   معلوم ہو گا کہ ہم اس دوڑ  میں مسلسل شامل ہیں۔ ایک طالب علم اپنے تما م ہم جماعتوں کے ساتھ نمبروں کی دوڑ میں شامل ہے تو اسی طرح ایک کمپنی میں کام کرنے والے افراد ایک دوسرے کے ساتھ کارگردگی کی دوڑ میں شامل ہیں۔  یہی حال اقوام کا بھی ہے ۔ امریکہ اور چین دونوں سپر پاور بننے کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کیلیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ قدرت کا  قانون ہے کہ مقابلے کی اس دوڑ میں  ایک فریق کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے تو دوسرے کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہ شکست کیا ہوتی ہے؟ کیا کسی کی ہار کو شکست کہتے ہیں؟  اگر ایسا ہے تو پھر انسان کب ہار مانتا ہے؟   ہار  ماننے سے کیسے شکست ہوتی ہے؟

ان تما م سوالوں کا جواب ایک ایسے شخص کی زندگی سے ملتا ہے جس کو دنیا  کیرولی ٹیکاس (Karoly Takacs) کے نا م سے یاد کرتی ہےجو۱۹۱۰ء کو ہنگری کے شہر بڈاپسٹ میں پیدا ہوا۔کیرولی  فوج میں ایک سارجنٹ تھا۔ لیکن  وہ ایک کمال کا نشانے باز بھی تھا جس بناء پر اسے قومی نشانے بازی کی ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔  


کیرولی ویکاس


لیکن ۱۹۳۸ء میں  اس کے ساتھ ایک ایسا واقع پیش آیا جس نے اس کی زندگی کو بدل کررکھ دیا۔ ایک  فوجی مشق کے دوران اس کے ہاتھ میں ایک دستی بم  پھٹ   جانے کی وجہ سے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے دائیں ہاتھ سے محروم ہوگیا۔  لیکن یہ حادثہ  کیرولی کو متزلزل نہ کرسکا  اور مایوسی کا شکار ہو کر نشانے بازی چھوڑنے کی بجائے اس نےبغیر کسی کو بتائے اپنے بائیں ہاتھ سے نشانے بازی کرنا شروع کر دی ۔ اسی طرح جب وہ ایک مقابلے میں گیا تو  ایک کھلاڑی نے اس کو داد دینے کی کوشش کی کہ وہ ان کو میدان میں حوصلہ دینے آیا ہے لیکن ان تمام کھلاڑیوں کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب کیرولی نے بتا یا کہ وہ یہاں کسی کو حوصلہ دینے نہیں آیا بلکہ مقابلہ کرنے آیا ہے اور وہ مقابلہ جیت گیا ۔ اسی سال اپنی محنت اور لگن سے وہ ہنگری کی  نشانے بازی کی قومی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگیا  اور  اب اسکی نظر اولمپکس کے عالمی مقابلوں پرتھی۔

لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا ۔ ۱۹۴۰ء اور ۱۹۴۴ء کے دونوں اولمپکس کے مقابلے جنگ عظیم دوم کی وجہ سے منسوخ ہو گئےلیکن کیرولی  ڈٹا رہا اور آخر دس سال کے انتظار کے بعد اس نے لندن اولمپکس ۱۹۴۸ء میں  نشانے بازی کے مقابلے (۲۵ میڑ پسٹل ریپڈ فائر)  میں۵۸۰ پوائنٹس حاصل کر کے عالمی ریکارڈ بنایا اور سونے کا تمغہ حاصل کیا ۔اسی طرح  ۱۹۵۲ء کے اولمپکس میں ایک پھر سونے کا تمغہ جیت کر  اس نے دنیا کو ایک با رپھر حیران  کر دیا کہ انسان تب تک شکست نہیں کھا سکتا جب تک کہ وہ اپنا حوصلہ نہ ہارے۔انسان اس وقت شکست کھاتا ہے جب وہ مصائب اور حالات سے سمجھوتہ کر کے ہمت ہار جائے اور جدوجہد ترک کر دے۔

؎   تندی بادمخالف سے نہ گھبرا اے عقاب 
  یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے


ازقلم : حسیب الحسن





Comments

  1. Replies
    1. kindly complete your sentence so we all can take benefit from your valuable feedback.

      Delete
  2. This is one of the most attractive one....the meaning of defeat is understoodable here....realy A big hand...and great contribution....

    ReplyDelete
  3. شکست درحقیقت ہمارے جذبہ اور حوصلہ کے کم ہونے کی وجہ سے کم ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اگر ہم ایک بار یا بار بار بھی ہار کر کچھ نہیں سیکھتے تو ہماری اصل شکست یہی ہوگی کہ ہم نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا

    ReplyDelete
    Replies
    1. نہایت عمدہ سبق ۔ بہت شکریہ انتہائی مفید کمبٹ کا۔

      Delete
  4. Defeat is nothing but the first step to something better.
    Inspiring content 👏keep writing👍

    ReplyDelete
    Replies
    1. Yes and thank you so much for appreciation and motivation. I'll keep writing (In Sha ALLAH)

      Delete
    2. In sha Allah waiting for next😇

      Delete

Post a Comment

Popular Posts